مشمولہ کہانی میں میرا حصہ

آپ مغرب کے کسی ملک میں جائیے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں لندن یاترا کے دوران آپ کنگز کراس جیسے مصروف ریلوے سٹیشن پر بھی آپ کو کئی جگہ غیر معمولی منظر آئے گا۔ بہت سے لوگ اپنے اوور کوٹ کی جیب سے سمارٹ سی کتاب نکال کر بینچ پر بیٹھتے ہیں اور دنیا و مافیہا سے بےخبر محوِ مطالعہ ہو جاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک منفرد اور سمارٹ کتاب حال ہی میں پاکستان میں شائع ہوئی ہے۔ یہ ممتاز ادیب عثمان غنی رعد کے شاندار افسانوں کا مجموعہ ’مشمولہ کہانی میں میرا حصہ‘ ہے۔ یہ نظروں کو لبھاتی جیبی کتاب صرف جسامت ہی میں نہیں بلکہ اپنے موضوعات کے چناؤ اور ان کی شاندار افسانوی تفہیم میں بھی منفرد ہے۔

کل 10 افسانے ہیں جو 90 صفحات پر شائع ہیں۔ عام طور پر اتنے صفحات دو ایک گھنٹے کی نشست میں ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ کہانیاں قاری کو جگہ جگہ جھنجھوڑ کر روکتی ہیں کہ خیال کا کینوس جمالیات کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفے اور سماجیات کے سارے cross section پر پھیلتا ہے۔

یہ کہانیاں گواہ ہیں کہ افسانہ نگار نے بےانتہا ریاضت اور تپسیا کی ہے تب جا کر یہ کندن جیسی کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ صاف، رواں اور سلیس زبان میں کہانیاں قاری کی انگلی پکڑ کر چلتی ہیں اور پڑھنے والا سوچتا ہے کیا موجودہ دور تہذیب و تمدن کا قابلِ رشک عروج ہے یا دراصل ترقی معکوس ہے؟ یہ کہانیاں ملک سے باہر لکھی جانے والی کہانیوں کے مدِ مقابل رکھی جا سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے