بارش اچانک تیز ہو گئی ہے

تمھیں اُن خطوں کے ملنے کی امید ہے
جو کبھی پوسٹ نہیں کیے گئے
اور میں وہ نظمیں بھیجتا رہتا ہوں
جو کبھی لکھی نہیں جائیں گی
ہم دونوں
ایک طوالت پذیر خواب کی واماندگی میں
ایک دوسرے کی آنکھوں میں جاگ رہے ہیں
اور اس خواب سے باہر
طلوع و غروب کا کھیل جاری ہے
دن اور زمانہ کوئی بھی ہو
محبت کرنے والوں کے لیے رک کر نہیں دیکھتا
کچھ دن طلوع ہونے سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں
اور کچھ محبتیں پروان چڑھے بغیر ختم ہو جاتی ہیں
جیسے کچھ خط لکھے بغیر پوسٹ کر دیے جاتے ہیں
اور کچھ لکھے پڑے رہ جاتے ہیں
اوسیپوف کی طرح
عمروں کی نارسائی میں
یہ سوچنا بے ما و من ہے
کہ کون، کب اور کیسے ملے یا بچھڑے گا
یا ملے بغیر جدا ہو جائے گا
تب تم کہاں تھے
جب میں زندگی کے اداس ترین دنوں سے گزر رہا تھا
میرے پاس اَن دیکھے خوابوں کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا
اور جینے کے لیے چٹکی بھر محبت بھی دستیاب نہیں تھی
اور سانس لینے کے لیے
چھت کے پنکھوں اور درختوں کے نیچے کھڑا ہونا پڑتا تھا
اور اب تم کہاں ہو؟
جب شاعری سرِ عام رسوا ہو رہی ہے
اور نظموں سے فلرٹ کیا جا رہا ہے
آرٹ صرف فلموں
یا نیم برہنہ جسموں میں رہ گیا ہے
میں پھر بھی کہوں گا
تمہارے کتھئی بالوں کا گھونسلا، اٹھی ہوئی لمبی گردن کے تل
اور ڈھکے ہوئے سینے کے ابھار
میری نظموں سے زیادہ خوبصورت ہیں
ہاں اگر تم خود نظم لکھو
تو شاید اس کی رعنائی کا مقابلہ نہ کر سکو
دیوار پہ بیٹھا پرندہ بھی جانتا ہے
ہلکی بارش اور درپردہ محبت میں کیا مشترک ہے
ایک باہر سے بھگو دیتی ہے
دوسری اندر سے
بارش اچانک تیز ہو گئی ہے
اور میں لان سے اٹھ کر لاؤنج میں آ گیا ہوں
پلاسٹک کی میز اور کرسیاں نم گیر نہیں ہوتیں
ان پہ گرنے والے قطرے گرتے ہی بلبلے بن جاتے ہیں
میں نادیدہ آنکھ سے دیکھ رہا ہوں
تم اِس وقت موبائل ہاتھ میں تھامے بستر پر نیم دراز ہو
اور اسکرین پر ایرانی اک تارا بج رہا ہے
کمرے سے نکل کر برآمدے میں آ جاؤ
چھینٹے اڑاتی ہوا اور بھیگے ہوئے خالی کاغذ کے پرزے
تمہاری نظم بننے کے لیے تیار ہیں!

نظم: نصیر احمد ناصر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے