ہمارے انورؔ مسعود
انورؔ مسعود کے لفظوں میں لطافت بھی ہے، بصیرت بھی۔ وہ قہقہے کے دامن میں حکمت کے پھول رکھ دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں جیسے روشنی ہنستی اور خاموشی بولتی ہے۔ وہ استاد، جس نے نسلوں کو فارسی کی مٹھاس اور پنجابی کی سچائی کا ذائقہ چکھایا۔ وہ عاشقِ سخن، جس نے کہا:
’جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے، رونے کو چھپانا ہوتا ہے‘
8 نومبر 2025 ان کا 90واں یوم پیدائش تھا۔ اس موقع پر ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو ان سے کچھ غیر روایتی گفتگو (گپ شپ) بھی ہوئی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شکر ہے شین پہ نکتے ہیں، ورنہ گپ سپ ہوجاتی۔
لفظ کی تتلی: انور مسعود کی پہلی محبت
میں گجرات کا رہنے والا ہوں۔ مودی والا گجرات نہیں، ہمارا گجرات، جو وزیرآباد اور لالہ موسیٰ کے درمیان واقع ہے۔ میرا بچپن وہیں گزرا۔ ہم صنعت کار لوگ ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے بجلی کے پنکھے بنائے تھے۔ آپ نے ’یونس فین‘ کا نام سنا ہوگا؟ وہ میرے چچا تھے۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ مجھے اس صنعت سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ میرے اندر ابتدا ہی سے لفظ کے لیے ایک بے نام سی کشش پیدا ہو گئی تھی۔
مجھے یاد ہے، بچپن میں گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک خاتون کی بطخ باہر نکل آئی۔ وہ گھبرا کر بولی: ’کاکا، بطخ نوں ڈک لے!‘ میں نے بطخ کو تو نہیں پکڑا، البتہ اتنا ضرور کہا: ’بی بی، ڈک دا مطلب وی تے بطخ ہوندا اے۔‘ یعنی میرا دھیان اُس وقت بھی بطخ پر نہیں، لفظ پر تھا۔ تب ہی سے لفظ میرے لیے ایک جادو بن گیا۔ لفظ ایک الگ دنیا ہے، اس میں معنی بھی ہیں، موسیقی بھی، مصوری بھی، اور جذبے کی لطیف لہریں بھی۔
